EN हिंदी
تھکن کی گرد سے خوش رنگ آہٹوں میں آ | شیح شیری
thakan ki gard se KHush-rang aahaTon mein aa

غزل

تھکن کی گرد سے خوش رنگ آہٹوں میں آ

جاذب قریشی

;

تھکن کی گرد سے خوش رنگ آہٹوں میں آ
عداوتوں کو بھلا دے محبتوں میں آ

نہ جانے کب سے ترا انتظار ہے مجھ کو
کہ نیند توڑ کے بے خواب راستوں میں آ

مرے خیال کے سائے ترے بدن کے عکس
پکارتے ہیں ملاقات کی حدوں میں آ

لپٹ گئی ہے مرے ذہن سے تری خوشبو
میں جل رہا ہوں کہ بارش کے موسموں میں آ

سفر کی دھوپ پگھل جائے گی پرانی ہے
گلاب بن کے مہک میری دھڑکنوں میں آ

بچھڑنا ہے تو بچھڑ جا تبسموں کے ساتھ
جو مجھ سے پیار ہے تجھ کو تو پتھروں میں آ

جو شخص شعلۂ جاں بن گیا نمائش میں
تجھے نہ لوٹ لے وہ میری دھڑکنوں میں آ