EN हिंदी
ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہے | شیح شیری
Thahrega wahi ran mein jo himmat ka dhani hai

غزل

ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہے

حرمت الااکرام

;

ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہے
یہ معرکۂ خود گری و خود شکنی ہے

ہو خیر کہ اے عظمت یزداں تری خاطر
انسان ازل سے ہدف اہرمنی ہے

تیور ہی مرے بھانپ لیے لوگوں نے ورنہ
دنیا میں بنائے سے کہاں بات بنی ہے

پہنچیں گے تری بزم دل آرا میں بھی اک روز
تاریک خلاؤں میں ابھی خیمہ زنی ہے

ڈرتا ہوں کہ چپکے سے اتر جائے نہ دل میں
یہ لمحۂ بیتاب کہ نیزے کی انی ہے

اے اہل جنوں دور نہیں منزل شیریں
ہاں بیچ میں اک مرحلۂ کوہ کنی ہے

منجملۂ تقصیر نہ ہو یہ بھی کہ حرمتؔ
مدت ہوئی بے وجہ زمانے سے ٹھنی ہے