تیز تر لہجۂ گفتار کیا ہے ہم نے
برگ گل کو کبھی تلوار کیا ہے ہم نے
شعلۂ تیغ کو آغوش نظر میں لے کر
زیست میں موت کو بھی پیار کیا ہے ہم نے
کتنے منصوروں کا خوں دے کے ترے کوچے میں
احترام رسن و دار کیا ہے ہم نے
مے کدہ والوں کو ساقی کا حوالہ دے کر
ایک آواز پہ ہشیار کیا ہے ہم نے
غیر کے خام ارادوں کو کیا ہے پسپا
عزم کو آہنی دیوار کیا ہے ہم نے
امن کہتے ہیں جسے روح ہے آزادی کی
ایک عالم کو خبردار کیا ہے ہم نے
غیر کو پہلے ہی پہچان لیا تھا لیکن
ہوش میں آنے کو اک وار کیا ہے ہم نے
خون کے داغ چٹانوں پہ جو پائے ہیں نشورؔ
چوم کر لالۂ کہسار کیا ہے ہم نے
غزل
تیز تر لہجۂ گفتار کیا ہے ہم نے
نشور واحدی

