EN हिंदी
تیری نظروں پہ تصدق آج اہل ہوش ہیں | شیح شیری
teri nazron pe tasadduq aaj ahl-e-hosh hain

غزل

تیری نظروں پہ تصدق آج اہل ہوش ہیں

فنا بلند شہری

;

تیری نظروں پہ تصدق آج اہل ہوش ہیں
جان جاں تیری نگاہیں میکدہ بر دوش ہیں

عشق میں اہل وفا کتنے اذیت کوش ہیں
خون دل کا ہو رہا ہے لب مگر خاموش ہیں

اے نگاہ شوق کس منزل میں لے آئی مجھے
دونوں عالم جلوہ گاہ یار میں روپوش ہیں

مجھ کو تنہا دیکھنے والے نہ سمجھیں راز عشق
میری تنہائی کے لمحے یار کے آغوش ہیں

سرمدؔ و منصورؔ و شبلیؔ کی نظر سے دیکھیے
ہوش والے ہیں وہی دنیا میں جو بے ہوش ہیں

لن ترانی کی صدا پر مسکرایا تھا کوئی
جتنے ذرے طور میں تھے آج تک بے ہوش ہیں

اے فناؔ بادہ کشی میں یہ انہی کا ہے کرم
ان کی مست آنکھوں سے پی کر بھی سراپا ہوش ہیں