تیری آغوش میں نڈھال ہوں میں
بھیگتی رات کا زوال ہوں میں
جتنا سلجھاؤ گے اور الجھو گے
وقت کا اک بڑا سوال ہوں میں
اور پچھلے پہر گلے مل لے
ڈوبتی رات کا کمال ہوں میں
اپنے اندر سمٹتا جاتا ہوں
خشک دریا کا ایک جال ہوں میں
فاصلے قرنوں کے جدائی میں
تیرا ماضی ہوں اپنا حال ہوں میں
کیا سمجھ کے ہنسا ہے تو مجھ پر
تیرے ہی آئنے کا بال ہوں میں
یہ مصورؔ بھنور میں آ کے کھلا
ڈوبنے میں بھی بے مثال ہوں میں
غزل
تیری آغوش میں نڈھال ہوں میں
مصور سبزواری

