EN हिंदी
تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں | شیح شیری
tere kuche se na ye sheftagan jate hain

غزل

تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں

میر محمدی بیدار

;

تیرے کوچہ سے نہ یہ شیفتگاں جاتے ہیں
جھوٹ کہتے ہیں کہ جاتے ہیں کہاں جاتے ہیں

آمد و رفت نہ پوچھ اپنی گلی کی ہم سے
آتے ہیں ہنستے ہوئے کرتے فغاں جاتے ہیں

کعبہ و دیر میں دیکھے ہیں اسی کا جلوہ
کفر و اسلام میں کب دیدہ وراں جاتے ہیں

نہیں مقدور کہ پہنچے کوئی اس تک پر ہم
جوں نگہ دیدۂ مردم سے نہاں جاتے ہیں

گر ہے دیدار طلب صاف کر اپنے دل کو
روبرو اس کے تو آئینہ دلاں جاتے ہیں

جذب تیرا ہی اگر کھینچے تو پہنچیں ورنہ
تجھ کو سنتے ہیں پرے واں سے جہاں جاتے ہیں

آہ کرتا ہے خراش ان کا دلوں میں نالہ
کون یہ قافلہ میں نالہ زناں جاتے ہیں

جی میں ہے کہئے غزل اور مقابل اس کے
گہر اس بحر میں مضموں کے رواں جاتے ہیں

تجھ کو بیدارؔ رکھا پیچھے گراں باری نے
راہ رو جو ہیں سبک سار دواں جاتے ہیں