EN हिंदी
تیرے جلووں کو روبرو کر کے | شیح شیری
tere jalwon ko ru-ba-ru kar ke

غزل

تیرے جلووں کو روبرو کر کے

افضل الہ آبادی

;

تیرے جلووں کو روبرو کر کے
تجھ سے ملتے ہیں ہم وضو کر کے

تیرے کوچے سے لوٹ آئے ہم
اپنی آنکھیں لہو لہو کر کے

چاک دامن ہے چاک رہنے دے
کیا کرے گا اسے رفو کر کے

تیرے لہجے میں کیسا جادو ہے
ہم بھی دیکھیں گے گفتگو کر کے

اپنی دنیا لٹائے بیٹھا ہوں
یہ ملا تیری جستجو کر کے

کھو دیا ہے چراغ بھی افضلؔ
چاند تاروں کی آرزو کر کے