تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے
ہم ترے ساتھ ترا ذکر کیا کرتے تھے
ڈھونڈ لیتے تھے لکیروں میں محبت کی لکیر
ان کہی بات پہ سو جھگڑے کیا کرتے تھے
اک ترے لمس کی خوشبو کو پکڑنے کے لئے
تتلیاں ہاتھ سے ہم چھوڑ دیا کرتے تھے
وصل کی دھوپ بڑی سرد ہوا کرتی تھی
ہم ترے ہجر کی چھاؤں میں جلا کرتے تھے
تو نے اے سنگ دلی! آج جسے دیکھا ہے
ہم اسے دیکھ کے دل تھام لیا کرتے تھے

غزل
تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے
نجیب احمد