EN हिंदी
تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے | شیح شیری
tere hamdam tere hamraaz hua karte the

غزل

تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے

نجیب احمد

;

تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے
ہم ترے ساتھ ترا ذکر کیا کرتے تھے

ڈھونڈ لیتے تھے لکیروں میں محبت کی لکیر
ان کہی بات پہ سو جھگڑے کیا کرتے تھے

اک ترے لمس کی خوشبو کو پکڑنے کے لئے
تتلیاں ہاتھ سے ہم چھوڑ دیا کرتے تھے

وصل کی دھوپ بڑی سرد ہوا کرتی تھی
ہم ترے ہجر کی چھاؤں میں جلا کرتے تھے

تو نے اے سنگ دلی! آج جسے دیکھا ہے
ہم اسے دیکھ کے دل تھام لیا کرتے تھے