EN हिंदी
تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی | شیح شیری
tere daman ki thi ya mast hua kis ki thi

غزل

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی

اعجاز عبید

;

تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھی
ساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھی

کون مجرم ہے کہ دوری ہے وہی پہلی سی
پاس آ کر چلے جانے کی ادا کس کی تھی

دل تو سلگا تھا مگر آنکھوں میں آنسو کیوں آئے
مل گئی کس کو سزا اور خطا کس کی تھی

شام آتے ہی اتر آئے مرے گاؤں میں رنگ
جس کے یہ رنگ تھے جانے وہ قبا کس کی تھی

یہ مرا دل ہے کہ آنکھیں کہ ستاروں کی طرح
جلنے بجھنے کی سحر تک یہ ادا کس کی تھی

چاندنی رات گھنے نیم تلے کوئی نہ تھا
پھر فضاؤں میں وہ خوشبوئے حنا کس کی تھی