تیرے آنے کا احتمال رہا
مرتے مرتے یہی خیال رہا
غم ترا دل سے کوئی نکلے ہے
آہ ہر چند میں نکال رہا
ہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے
یاں ہمیشہ کسے وصال رہا
شمع ساں جلتے ہلتے کاٹی عمر
جب تلک سر رہا وبال رہا
مل گئے خاک میں ہی طفل سرشک
میں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا
سمجھئے اس قدر نہ کیجے غرور
کوئی بھی حسن لا زوال رہا
تیرے در سے کوئی بھی ٹلتا ہوں
مجھ کو ہر چند تو تو ٹال رہا
دل نہ سنبھلا اگرچہ میں تو اسے
اپنے مقدور تک سنبھال رہا
پھر نہ کہنا اثرؔ نہ کچھ سننا
کوئی دن گر یوں ہی جو حال رہا
غزل
تیرے آنے کا احتمال رہا
میر اثر

