EN हिंदी
تیرا ہی ذکر ہرسو ترا ہی بیاں ملے | شیح شیری
tera hi zikr harsu tera hi bayan mile

غزل

تیرا ہی ذکر ہرسو ترا ہی بیاں ملے

سیا سچدیو

;

تیرا ہی ذکر ہرسو ترا ہی بیاں ملے
کھولوں کوئی کتاب تیری داستاں ملے

دنیا کے شور و شر سے بہت تنگ آ گئے
ممکن ہے اب تری ہی گلی اماں ملے

پیدا تو کر بلندیاں اپنے خیال میں
شاید اسی زمیں پہ تجھے آسماں ملے

بس ایک بار اس سے ملاقات کیا ہوئی
تا عمر اپنے آپ کو پھر ہم ملے

محسوس تیرے قدموں کی ہو آہٹیں جہاں
ان راستوں پہ بکھری ہوئی کہکشاں ملے

ڈھونڈ تو تو کہیں بھی دکھائی نہ دے مجھے
دیکھوں تو ذرے ذرے میں تو ہی نہاں ملے

وہ بد نصیب ہے جو بھٹکتے ہے در بہ در
وہ خوش نصیب جن کو تیرا آستاں ملے