EN हिंदी
توحید دل میں ہو تو لبوں پر رہے خدا | شیح شیری
tauhid dil mein ho to labon par rahe KHuda

غزل

توحید دل میں ہو تو لبوں پر رہے خدا

اطہر شکیل

;

توحید دل میں ہو تو لبوں پر رہے خدا
ہم یوں جیے تو کیا جیے بے دین بے خدا

لو یوں تو ہو گئی ہے بہت کم ضمیر کی
اس آخری چراغ کو بجھنے نہ دے خدا

تو راہ راست اپنے کرم سے دکھا مجھے
رستے غلط ہزار ہیں دنیا میں اے خدا

طالب ہیں برتری کے مگر ہیں عمل سے دور
ہم کو جو کام کرنا ہے وہ کیوں کرے خدا

گر زانیوں کو ملتی نہیں ہے سزا یہاں
حوا کی بیٹیوں سے کشش چھین لے خدا

اب تو سکون بخش کہ اطہر شکیلؔ نے
اس عمر مختصر میں بہت دکھ سہے خدا