EN हिंदी
تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں | شیح شیری
taswir meri hai aks tera tu aur nahin main aur nahin

غزل

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں

شاد لکھنوی

;

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں
کر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں

تسبیح نے جس دم فخر کیا دانوں میں وہیں ڈورے کو دکھا
زنار نے اس رشتے سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں

اس باغ میں تو اے برگ حنا ہنسنے پہ مرے زخموں کے نہ جا
رونے میں لہو خنداں ہوں کیا تو اور نہیں میں اور نہیں

ہر ایک جواہر بیش بہا چمکا تو یہ پتھر کہنے لگا
جو سنگ ترا وہ سنگ مرا تو اور نہیں میں اور نہیں

اے شادؔ مرا پتلا جو بنا مل آتش و خاک و آب و ہوا
ہر چار عناصر نے یہ کہا تو اور نہیں میں اور نہیں