EN हिंदी
ترک ستم پہ وہ جو قسم کھا کے رہ گئے | شیح شیری
tark-e-sitam pe wo jo qasam kha ke rah gae

غزل

ترک ستم پہ وہ جو قسم کھا کے رہ گئے

رشید رامپوری

;

ترک ستم پہ وہ جو قسم کھا کے رہ گئے
ارمان دل میں عرض تمنا کے رہ گئے

تم کہتے کہتے ہم سے جو شرما کے رہ گئے
کیا بات تھی جو تا بہ زباں لا کے رہ گئے

دیتا ہے ساتھ کون کسی کا پس فنا
سب دوست تا لحد مجھے پہنچا کے رہ گئے

یا میں نے راہ عشق و وفا سے گریز کی
یا ہم نفس مرے مجھے سمجھا کے رہ گئے

اچھا ہوا نہ ان کا مریض شب فراق
سب معجزے جناب مسیحا کے رہ گئے

دنیا سے جانے والوں کا کوئی پتہ نہیں
یا رب مرے یہ لوگ کہاں جا کے رہ گئے

کیا ان سے اٹھ سکیں گی محبت کی سختیاں
جو پاؤں راہ عشق میں پھیلا کے رہ گئے

تقدیر میں قفس ہو تو کیا اس سے فائدہ
دو دن اگر چمن کی ہوا کھا کے رہ گئے

پھرتے ہو اے رشیدؔ جو تم اس کے ساتھ ساتھ
بن کر غلام کیا دل شیدا کے رہ گئے