EN हिंदी
تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے | شیح شیری
tanKHwah-e-tabar bahr-e-daraKHtan-e-kuhan hai

غزل

تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے

رشید لکھنوی

;

تنخواہ تبر بہر درختان کہن ہے
جو شاخ پھلی ہے وہ بر آورد چمن ہے

گلشن سے عنادل کو قفس میں ہے سوا چین
آرام جہاں ہو وہ غریبوں کا وطن ہے

ہے عالم طفلی سے عیاں موت کا ساماں
غنچے کا جو ملبوس ہے وہ گل کا کفن ہے

ہے حکم کہ مرنے میں نہ اب دیر لگائیں
یہ قید فقط بہر اسیران کہن ہے

اے ضعف یہ چھٹنا ہے مجھے قید سے بد تر
جو تار نفس ہے مری گردن میں رسن ہے