EN हिंदी
تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں | شیح شیری
tanhaiyan jo ras na aaen to kya karen

غزل

تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں

رئیس اختر

;

تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں
زخموں کی انجمن نہ سجائیں تو کیا کریں

اس دور کشمکش میں محبت کا نام بھی
دانستہ لوگ بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اک آسرا تو چاہئے جینے کے واسطے
حالات کا فریب نہ کھائیں تو کیا کریں

دل بھی یہاں بہت ہیں سوالات بھی بہت
لیکن کوئی جواب نہ پائیں تو کیا کریں

واقف ہیں ہم بھی عشق کے آداب سے مگر
دیوانہ خود ہی لوگ بنائیں تو کیا کریں

ویراں ہے پہلی شام سے مقتل کے راستے
گھبرا کے مے کدہ کو نہ جائیں تو کیا کریں

دم گھٹ رہے ہیں تلخ حقائق کے زہر سے
خوابوں کی بستیاں نہ بسائیں تو کیا کریں

دنیا کے ہر فریب کو احسان مان کر
دنیا کا حوصلہ نہ بڑھائیں تو کیا کریں

تفسیر کائنات تو آسان ہے رئیسؔ
اپنے ہی دل کا راز نہ پائیں تو کیا کریں