EN हिंदी
تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں | شیح شیری
tanhai se hai sohbat din raat judai mein

غزل

تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں

جوشش عظیم آبادی

;

تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں
کیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میں

رخصت ہو چلا تھا تب دامن نہ ترا تھاما
افسوس کہ ملتے ہیں اب ہاتھ جدائی میں

کیا ذکر ہے آنسو کا ظالم مری آنکھوں سے
خوں ناب ہی ٹپکے ہے یک ذات جدائی میں

جب وصل تھا ان روزوں یک دل ہی پہ آفت تھی
اب جان کا ہے سودا ہیہات جدائی میں

یہ نالہ و زاری یہ خستگی و خواری
جیدھر کو چلوں ؔجوشش ہیں سات جدائی میں