EN हिंदी
تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہے | شیح شیری
tanhai mein aaj un se mulaqat hui hai

غزل

تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہے

چرخ چنیوٹی

;

تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہے
جس بات کی خواہش تھی وہی بات ہوئی ہے

آنکھوں سے گرے اشک ٹپاٹپ تو وہ بولے
بادل کے بغیر آج یہ برسات ہوئی ہے

سمجھا ہوں اسی دن ہی سے میں زیست کا مفہوم
جس دن سے مری تم سے ملاقات ہوئی ہے

خوابوں میں ملاقاتیں تو ہوتی رہیں اکثر
با نفس نفیس آج ملاقات ہوئی ہے

مقصد تھا ملے غم سے نجات اس لیے اے چرخؔ
اک عمر مری وقف خراجات ہوئی ہے