EN हिंदी
تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں | شیح شیری
tanha khaDe hain hum sar-e-bazar kya karen

غزل

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

شبنم شکیل

;

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں
کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں

اے کم نصیب دل تو مگر چاہتا ہے کیا
سنیاس لے لیں چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں

الجھا کے خود ہی زیست کے اک ایک تار کو
خود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں

اک عمر تک جو زیست کا حاصل بنی رہیں
پامال ہو رہی ہیں وہ اقدار کیا کریں

ہے پوری کائنات کا چہرہ دھواں دھواں
غزلوں میں ذکر یار طرح دار کیا کریں

اس دوہری زندگی میں بھی لاکھوں عذاب ہیں
دنیا سے دل ہے برسر پیکار کیا کریں