EN हिंदी
تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو | شیح شیری
talaf karegi kab tak aarzu ki jaan aarzu

غزل

تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو

محمد اعظم

;

تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو
تڑپ رہی ہے ہر طرف لہولہان آرزو

پھرا کے دیدۂ تپاں میں موم کے مجسمے
کہاں کہاں کرے گی دید کا زیان آرزو

ذرا سا ہاتھ کیا لگا حباب سا بکھر گیا
جسے سمجھ رہی تھی ایک آسمان آرزو

تو چشم ہی میں رہ اگر پسند ہے کشادگی
کہ دل ہے تنگ اور اس میں یک جہان آرزو

اسی کے ہیں سبب سے سب یہ ہجر کی صعوبتیں
کہاں سے آ گئی ہمارے درمیان آرزو

تو آفتاب ہے میں گل دعا ترے سکون کی
کسی کی شان قہر ہے کسی کی شان آرزو

الٰہی خیر اتنے سن پہ آندھیوں کی دوستی
ابھی تو سیکھ پائی بھی نہیں اڑان آرزو

شجر حجر زمین آسماں سب کو ضعف ہے
مگر یہ اک جوان کی رہی جوان آرزو