EN हिंदी
تخاطب ہے تجھ سے خیال اور کا ہے | شیح شیری
taKHatub hai tujhse KHayal aur ka hai

غزل

تخاطب ہے تجھ سے خیال اور کا ہے

حمایت علی شاعرؔ

;

تخاطب ہے تجھ سے خیال اور کا ہے
یہ نکتہ وفا میں بڑے غور کا ہے

وہ خلوت میں کچھ اور جلوت میں کچھ ہے
کرم اس کا مجھ پر عجب طور کا ہے

مرا چہرہ بھی میرا چہرہ نہیں ہے
یہ احسان مجھ پر مرے دور کا ہے

یہ نفرت محبت کا رد عمل ہے
کہ مجھ سے تقاضا ترے جور کا ہے

نئے دور کی ابتدا کا ہے ضامن
کہ دل آئنہ گوشۂ ثور کا ہے

کراچی میں بھی معتبر ہو رہا ہے
سخن میں جو انداز لاہور کا ہے