EN हिंदी
تک رہا ہے تو آسمان میں کیا | شیح شیری
tak raha hai tu aasman mein kya

غزل

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا

ضیا ضمیر

;

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا
ہے ابھی تک کسی اڑان میں کیا

وہ جو اک تجھ کو جاں سے پیارا تھا
اب بھی آتا ہے تیرے دھیان میں کیا

کیا نہیں ہوگی پھر مری تکمیل
کوئی تجھ سا نہیں جہان میں کیا

ہم تو تیری کہانی لکھ آئے
تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا

ہو ہی جاتے ہیں جب جدا دونوں
پھر تعلق ہے جسم و جان میں کیا

ہم قفس میں ہیں اڑنے والے بتا
ہے وہی لطف آسمان میں کیا

پڑھ رہے ہو جو اتنی غور سے تم
کچھ نیاپن ہے داستان میں کیا

اردو والے کمال دکھتے ہیں
کوئی جادو ہے اس زبان میں کیا