EN हिंदी
تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں | شیح شیری
tairta mauj-e-hawa sa aasmanon mein kahin

غزل

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں

محمد احمد رمز

;

تیرتا موج ہوا سا آسمانوں میں کہیں
اک پرندہ گم ہوا اونچی اڑانوں میں کہیں

میں حقیقت ہوں کسی کردار میں مجھ کو نہ ڈھال
لوگ دہرائیں نہ مجھ کو داستانوں میں کہیں

رات چپ ہے اکا دکا چپوؤں کے ساز پر
گیت کوئی گونجتا ہے بادبانوں میں کہیں

رات زخمی ہو رہی ہے لمحہ لمحہ میرے ساتھ
پھڑپھڑاتے ہیں پرندے آشیانوں میں کہیں

فن کی مستی دیکھنا باہر حصار حرف سے
سوچنا بہتا ہے دریا سائبانوں میں کہیں

روندنا گھوڑے کی ٹاپوں سے مرا باقی بدن
اور سر لے جا کے پھینک آنا چٹانوں میں کہیں

لوگ یکجا کر رہے ہیں رمزؔ میری خاک کو
دیکھنا پھر مجھ کو میرے قدر دانوں میں کہیں