EN हिंदी
تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں | شیح شیری
tabah KHud ko use la-zawal karte hain

غزل

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں

نعمان شوق

;

تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں
ہمارے لوگ جنوں میں کمال کرتے ہیں

مگر یہ راز فقط تتلیاں سمجھتی ہیں
چمکتے رنگ بھی جینا محال کرتے ہیں

کبھی کبھی تو درندوں پہ پیار آتا ہے
تمام شہر کی یوں دیکھ بھال کرتے ہیں

یہ کیا کہ دل بھی دکھانے کوئی نہیں آتا
چلو پرانے مراسم بحال کرتے ہیں

بلاؤ خواب نگر میں پھر اس ستارے کو
وہی کرو جو سبھی خوش خیال کرتے ہیں

کسی مذاق پہ کھل کر میں ہنس نہیں پاتا
ہنسی ہنسی میں وہ جینا محال کرتے ہیں