تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے
اگر زباں نہ چلائے تو سانپ مر جائے
کھڑی ہے در پہ اجل اور مجھ میں جان نہیں
کہو وہ دیر سے آئی ہے اپنے گھر جائے
کوئی چراغ جہاں روشنی کا ذکر کرے
سیاہ رات کا چہرہ وہیں اتر جائے
وہ برگ خشک جسے شاخ نے لتاڑ دیا
ہوا کے ساتھ نہ جائے تو پھر کدھر جائے
یہ جو چراغ ہواؤں کی دھن پہ رقصاں ہے
اسے بتاؤ ابھی وقت ہے سدھر جائے
ادب کی سوچ یہی ہے تمہارا تیر نہیں
تمہارا شعر دل و جان میں اتر جائے
ترے بیان میں خوشبو ہے روشنی دل میں
مینکؔ سب کی تمنا ہے تو بکھر جائے
غزل
تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے
مینک اوستھی

