EN हिंदी
تاروں سے بھری راہ گزر لے کے گئی ہے | شیح شیری
taron se bhari rahguzar le ke gai hai

غزل

تاروں سے بھری راہ گزر لے کے گئی ہے

مظہر امام

;

تاروں سے بھری راہ گزر لے کے گئی ہے
یہ صبح چراغوں کا نگر لے کے گئی ہے

تم کو تو پتہ ہوگا کہ ہم راہ تمہیں تھے
دنیا مرے خوابوں کو کدھر لے کے گئی ہے

پیاسے تھے تو پانی کو پکارا تھا ہمیں نے
ندی ادھر آئی ہے تو گھر لے کے گئی ہے

اک منزل بے مقصد و بے نام کی خواہش
کانٹوں کی سواری پہ سفر لے کے گئی ہے

بے بال و پری اب بھی سر دشت ہے محفوظ
آندھی تو فقط برگ و ثمر لے کے گئی ہے

شاید کہ اب آئے تری قربت کی نئی فصل
اس بار دعا باب اثر لے کے گئی ہے

چمکے گا ابھی زیور شہزادئ مہتاب
اس تک وہ مرے شب کی خبر لے کے گئی ہے