تاروں سے بھری راہ گزر لے کے گئی ہے
یہ صبح چراغوں کا نگر لے کے گئی ہے
تم کو تو پتہ ہوگا کہ ہم راہ تمہیں تھے
دنیا مرے خوابوں کو کدھر لے کے گئی ہے
پیاسے تھے تو پانی کو پکارا تھا ہمیں نے
ندی ادھر آئی ہے تو گھر لے کے گئی ہے
اک منزل بے مقصد و بے نام کی خواہش
کانٹوں کی سواری پہ سفر لے کے گئی ہے
بے بال و پری اب بھی سر دشت ہے محفوظ
آندھی تو فقط برگ و ثمر لے کے گئی ہے
شاید کہ اب آئے تری قربت کی نئی فصل
اس بار دعا باب اثر لے کے گئی ہے
چمکے گا ابھی زیور شہزادئ مہتاب
اس تک وہ مرے شب کی خبر لے کے گئی ہے
غزل
تاروں سے بھری راہ گزر لے کے گئی ہے
مظہر امام

