EN हिंदी
تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں | شیح شیری
taron se aur baat mein kamtar nahin hun main

غزل

تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں

مینک اوستھی

;

تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں
جگنو ہوں اس لیے بھی فلک پر نہیں ہوں میں

صدموں کی بارشیں مجھے کچھ تو گھلائیں گے
پتلا ہوں خاک کا کوئی پتھر نہیں ہوں میں

دریائے غم میں برف کے تودے کی شکل میں
مدت سے اپنے قد کے برابر نہیں ہوں میں

اس کا خیال اس کی زباں اس کے تذکرے
اس کے قفس سے آج بھی باہر نہیں ہوں میں

میں تشنگی کے شہر پہ ٹکڑا ہوں ابر کا
کوئی گلہ نہیں کہ سمندر نہیں ہوں میں

کیوں زہر زندگی نے پلایا مجھے مینکؔ
وہ بھی تو جانتی تھی کہ شنکر نہیں ہوں میں