تعلقات کے سارے دیے بجھے ہوئے تھے
عجیب حال تھا جب ان سے رابطے ہوئے تھے
ہمارے عکس کے پہلو سے ہو گئے خائف
ہمارے سامنے جو خود کے آئینے ہوئے تھے
نگاہ رات کا زینہ تلاش کرتی رہی
سلگتے خواب کسی طاق پر رکھے ہوئے تھے
خوشی ملی تو مسافت کا غم بھلا بیٹھے
گو راہ زیست پہ یوں کتنے آبلے ہوئے تھے
وہ تیرگی کا لہو تھا کہ چاندنی کا سرور
سحر کے نام کئی ذائقے لکھے ہوئے تھے
مرے وجود کو تقسیم کر دیا سب نے
زمیں کے جسم پہ کچھ ایسے سانحے ہوئے تھے
براہ راست کسی کا نشاں نہیں عامرؔ
سو فلسفے در و دیوار پر سجے ہوئے تھے
غزل
تعلقات کے سارے دیے بجھے ہوئے تھے
عامر نظر

