EN हिंदी
تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے | شیح شیری
taban jo nur-e-husn ba-sima-e-ishq hai

غزل

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے

حسرتؔ موہانی

;

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
کس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے

ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیں
ان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے

میں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاق
دل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے

شاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میں
اب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے

ظاہر ہے بے قرارئ پیہم سے حال دل
بے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے

پنہاں حجاب ناز میں ہے صورت جمال
پیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے

اے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگ
حسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے