تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات
یاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خرابات
آ دل میں کہ اس در پہ جو بیٹھا ہے پھر ان نے
فرسخ گنے کعبہ کے نہ فرسنگ خرابات
دیکھیں تو تری دھوم ٹک اے شورش مستی
پھر آج سر و سینہ ہے اور سنگ خرابات
تشبیہ میں جس دل کو نہ دی کعبہ سے سو دل
اب عشق مے و مغ سے ہے ہم رنگ خرابات
اے غنچہ دہن بس لب میگوں کو تنک موند
دل تنگ کہاں تک ہو دل تنگ خرابات
سو سر کا جو ہو آئے تو مقبول نہیں یاں
کھائی نہیں جس رند نے سرچنگ خرابات
کس نام سے قائمؔ میں تجھے کہہ تو پکاروں
اے عار در مسجد و اے ننگ خرابات
غزل
تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات
قائم چاندپوری

