EN हिंदी
صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے | شیح شیری
surat ka apni yar parastar tha so hai

غزل

صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے

عشق اورنگ آبادی

;

صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے
آئینہ دل اس کو جو درکار تھا سو ہے

یہ دل ہے تیغ ابروئے خم دار کا شہید
اس کا گواہ دیدۂ خم دار تھا سو ہے

مالک ہے میرے دل کا خدا تجھ سے اے صنم
پیوستہ بندگی کا جو اقرار تھا سو ہے

ظاہر میں گرچہ کفر سے منکر ہوا ہے شیخ
پوشیدہ اس کی سبحہ میں زنار تھا سو ہے

تجھ خط کی یاد میں دل حیران عشق کا
در نجف کی طرح سے مودار تھا سو ہے