EN हिंदी
صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی | شیح شیری
surat hai wo aisi ki bhulai nahin jati

غزل

صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی

حسن رضوی

;

صورت ہے وہ ایسی کہ بھلائی نہیں جاتی
روداد غم ہجر سنائی نہیں جاتی

ہر صبح الم شام ستم کا ہے تسلسل
کیا دل پہ گزرتی ہے بتائی نہیں جاتی

کہتی ہے دلہن شام کی بالوں کو بکھیرے
یوں نیند بھی آنکھوں سے اڑائی نہیں جاتی

چاہت پہ کبھی بس نہیں چلتا ہے کسی کا
لگ جاتی ہے یہ آگ لگائی نہیں جاتی

آسان نہیں ہے نئی دنیا کا بسانا
لیکن کبھی تنہا یہ بسائی نہیں جاتی

اشکوں سے حسنؔ آگ کہیں دل کی بجھی ہے
یہ آگ تو دریا ہے بجھائی نہیں جاتی