EN हिंदी
صورت سبزۂ بیگانہ چمن سے گزرے | شیح شیری
surat-e-sabza-e-be-gana chaman se guzre

غزل

صورت سبزۂ بیگانہ چمن سے گزرے

حرمت الااکرام

;

صورت سبزۂ بیگانہ چمن سے گزرے
ہم مسافر کی طرح اپنے وطن سے گزرے

سہل ہے نعرۂ منصور مگر سہل نہیں
ہر کوئی مرحلۂ دار و رسن سے گزرے

لالہ و گل کو تبسم کی ضیا دی ہم نے
جلوۂ صبح کی مانند چمن سے گزرے

ہے یہ کیا روشنیٔ فکر کی تیرہ بختی
جلوۂ روح نہ پیراہن تن سے گزرے

وہ کرے تجزیۂ موسم گل جس کی نظر
بزم گل میں حد نسرین و سمن سے گزرے

دل پہ کیا گزری یہ دل ہی کو خبر ہے لیکن
مسکراتے ہوئے ہم دار محن سے گزرے

نہ کسی پاؤں کی آہٹ نہ کوئی نقش قدم
قافلے روح کے یوں کوچۂ تن سے گزرے

ایک ذرہ میں کبھی کھو گئیں کتنی کرنیں
کتنے خورشید کبھی ایک کرن سے گزرے

نکہت گیسوئے جاناں بھی عجب تھی حرمتؔ
ہم تصور میں کئی بار ختن سے گزرے