EN हिंदी
صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں | شیح شیری
surat-e-barq-e-tapan shoala-fagan uTThe hain

غزل

صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں

محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

;

صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں
عزم نو لے کے جوانان وطن اٹھے ہیں

حفظ ناموس محبت کے لئے دیوانے
اپنے دل میں لیے مرنے کی لگن اٹھے ہیں

رخ زمانہ کی ہواؤں کا بدلنے والے
آج ڈالے ہوئے ماتھے پہ شکن اٹھے ہیں

پیکر مہر و وفا ہم ہیں مگر مجبوراً
ہاتھ میں تیغ لیے غلغلہ زن اٹھے ہیں

آنچ ناموس وطن پر نہیں آنے دیں گے
اب تو ہم باندھے ہوئے سر سے کفن اٹھے ہیں

چند لمحات کے مہمان نظر آتے ہیں
وہ بگولے جو سر صحن چمن اٹھے ہیں

اب اندھیروں سے کہو خیر منائیں اپنی
ذرے دھرتی کے مری بن کے کرن اٹھے ہیں

جب بھی آیا ہے کڑا وقت چمن پر منشاؔ
لے کے ہم حوصلۂ فتنہ شکن اٹھے ہیں