EN हिंदी
سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاند | شیح شیری
sukhi Tahni tanha chiDiya phika chand

غزل

سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاند

جاوید اختر

;

سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاند
آنکھوں کے صحرا میں ایک نمی کا چاند

اس ماتھے کو چومے کتنے دن بیتے
جس ماتھے کی خاطر تھا اک ٹیکا چاند

پہلے تو لگتی تھی کتنی بیگانہ
کتنا مبہم ہوتا ہے پہلی کا چاند

کم ہو کیسے ان خوشیوں سے تیرا غم
لہروں میں کب بہتا ہے ندی کا چاند

آؤ اب ہم اس کے بھی ٹکڑے کر لیں
ڈھاکہ راولپنڈی اور دلی کا چاند