EN हिंदी
سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر | شیح شیری
suna hum ko aate jo andar se bahar

غزل

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر

شاد لکھنوی

;

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر
پھرے الٹے پیروں باہر سے باہر

کڑی میں نہ دے ساتھ یار دلی تک
شرر چوٹ کھا کر ہو پتھر سے باہر

یوں ہی کالعدم ہم میان لحد تھے
مٹایا نشاں اس پہ ٹھوکر سے باہر

نہ کر ہرزہ گردی جو ذی آبرو ہے
نکلتا نہیں آئنہ گھر سے باہر

جناں سے ہوئی مدت آدم کو نکلے
وطن سے ہوں میں زندگی بھر سے باہر

وہ محروم دولت ہوں برگشتہ قسمت
اڑے خاک گھر میں جو ہو برسے باہر

مٹے گردش بخت کیا لاغروں کی
نہ ہو کاہ گرداب چکر سے باہر

لڑاتے جو ہو شادؔ سے گھر میں آنکھیں
نظر ڈالو ہم پر بھی تیور سے باہر