EN हिंदी
سلگتے دشت کا منظر ہوئی ہیں | شیح شیری
sulagte dasht ka manzar hui hain

غزل

سلگتے دشت کا منظر ہوئی ہیں

سیا سچدیو

;

سلگتے دشت کا منظر ہوئی ہیں
یہ آنکھیں ہجر میں بنجر ہوئی ہیں

تمہاری آرزو کو مل گیا گھر
ہماری حسرتیں بے گھر ہوئی ہیں

محبت میں تڑپ آہیں اذیت
یہ سب دشواریاں اکثر ہوئی ہے

نگاہوں میں کوئی تصویر ابھری
یہ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوئی ہیں

نہیں میں وہ نہیں ایسے نہ دیکھو
بہت تبدیلیاں اندر ہوئی ہے

ستاروں پر کھلے ہیں راز دل کے
تری باتیں ہی بس شب بھر ہوئی ہیں

سیا مایوس بے بس خواہشیں کچھ
مرے اپنے لہو سے تر ہوئی ہیں