EN हिंदी
سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے | شیح شیری
sulagne rakh ho jaane ka Dar kyun lag raha hai

غزل

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے

محمد احمد رمز

;

سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے
دہکتی آگ سا گردن پہ سر کیوں لگ رہا ہے

لہو سے آبیاری کرنے والو کچھ تو سوچو
یہ سارا باغ بے برگ و ثمر کیوں لگ رہا ہے

پرند فکر پر ہیں سخت کیوں اس کی اڑانیں
مسافر آج بے سمت و سفر کیوں لگ رہا ہے

یہ کس خواہش کا مد و جزر ہیں میری نگاہیں
مجھے سارا سمندر اک بھنور کیوں لگ رہا ہے

ابھی روشن ہیں کچھ نقش و نگار خود فریبی
محل اس کی رفاقت کا کھنڈر کیوں لگ رہا ہے

مجھے کس موج میں لایا ہے استغراق میرا
میں جس قطرے کو چھوتا ہوں گہر کیوں لگ رہا ہے

میں ہوں اس پار ابھرتے ڈوبتے منظر میں جیسے
ادھر جو ہونے والا تھا ادھر کیوں لگ رہا ہے