سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے
دہکتی آگ سا گردن پہ سر کیوں لگ رہا ہے
لہو سے آبیاری کرنے والو کچھ تو سوچو
یہ سارا باغ بے برگ و ثمر کیوں لگ رہا ہے
پرند فکر پر ہیں سخت کیوں اس کی اڑانیں
مسافر آج بے سمت و سفر کیوں لگ رہا ہے
یہ کس خواہش کا مد و جزر ہیں میری نگاہیں
مجھے سارا سمندر اک بھنور کیوں لگ رہا ہے
ابھی روشن ہیں کچھ نقش و نگار خود فریبی
محل اس کی رفاقت کا کھنڈر کیوں لگ رہا ہے
مجھے کس موج میں لایا ہے استغراق میرا
میں جس قطرے کو چھوتا ہوں گہر کیوں لگ رہا ہے
میں ہوں اس پار ابھرتے ڈوبتے منظر میں جیسے
ادھر جو ہونے والا تھا ادھر کیوں لگ رہا ہے
غزل
سلگنے راکھ ہو جانے کا ڈر کیوں لگ رہا ہے
محمد احمد رمز

