EN हिंदी
سبحہ سے ہے نہ کام نہ زنار سے غرض | شیح شیری
subha se hai na kaam na zunnar se gharaz

غزل

سبحہ سے ہے نہ کام نہ زنار سے غرض

شاہ آثم

;

سبحہ سے ہے نہ کام نہ زنار سے غرض
ہے مجھ کو صرف گیسوئے دلدار سے غرض

ہے دل کو میری کوچۂ دل دار سے غرض
بلبل کو جیسے ہوتی ہے گلزار سے غرض

بیمار عشق ہوں نہیں عیسیٰ سے مجھ کو کام
ہے صرف مجھ کو شربت دیدار سے غرض

مجھ کو دیا جنوں نے ہے عریانی کا لباس
مجھ کو نہیں ہے جبہ و دستار سے غرض

خواہش نہیں ہے سایۂ طوبیٰ کی زاہدا
ہے مجھ کو روز و شب قد دلدار سے غرض

مجھ کو نہیں ہے خانۂ بستاں سے کچھ بھی کام
رکھتا ہوں اس کے سایۂ دیوار سے غرض

ہے زندگی مری مئے گل رنگ سے مدام
بے وجہ مجھ کو ہے نہیں خمار سے غرض

مذہب ہے عشق اور ہے رندی سے مجھ کو کار
کافر سے ہے نہ کام نہ دیں دار سے غرض

زخمیٔ تیغ عشق ہوں اس واسطے مجھے
ہرگز نہیں ہے مرہم زنگار سے غرض

دل کو مرے ہے جور سے اس کے ہمیشہ کار
ہو مشتری کو جیسے خریدار سے غرض

رکھتا ہوں میں غرض شہ خادم کی عشق سے
آثمؔ مجھے ہے یار نہ اغیار سے غرض