EN हिंदी
صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں | شیح شیری
subh ke dard ko raaton ki jalan ko bhulen

غزل

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

جاں نثاراختر

;

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں
کس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیں

آج تک چوٹ دبائے نہیں دبتی دل کی
کس طرح اس صنم سنگ بدن کو بھولیں

اب سوا اس کے مداوائے غم دل کیا ہے
اتنی پی جائیں کہ ہر رنج و محن کو بھولیں

اور تہذیب غم عشق نبھا دیں کچھ دن
آخری وقت میں کیا اپنے چلن کو بھولیں