EN हिंदी
صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا | شیح شیری
subh-e-nau aa gai tirgi miT gai shor hai har taraf inqalab aa gaya

غزل

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا

آنند نرائن ملا

;

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا
مجھ کو ڈر ہے اندھیرا کوئی رات کا منہ پہ ڈالے سحر کی نقاب آ گیا

حسن کی یہ ادا بھی ہے کتنی حسیں اک تبسم میں سب کچھ ہے کچھ بھی نہیں
اپنی اپنی سمجھ اپنا اپنا یقیں ہر سوال نظر کا جواب آ گیا

بزم ہستی میں ہنگامہ برپا کیے کوئی گیتا لیے کوئی قرآں لیے
میں بھی ساقی کے ہاتھوں سے پائی تھی جو لے کے اپنی سنہری کتاب آ گیا

فطرت حسن کو کون سمجھے بھلا گہہ عطا ہی عطا گہہ جفا ہی جفا
گاہ تقصیر کی اور ہنسی آ گئی گاہ سجدے کیے اور عتاب آ گیا

زیست کی تلخیاں الاماں پھر بھی وہ چھین پائیں نہ میرے لبوں سے ہنسی
عشق تو نے دیا وہ غم شادماں ہو کے ناکام میں کامیاب آ گیا

گردش روز و شب نے نہ جانے کہاں کی نکالی ہے ملاؔ سے یہ دشمنی
اس نے ساغر اٹھایا سحر ہو گئی اس نے ساغر رکھا ماہتاب آ گیا