EN हिंदी
سوز شمع ہجر سے شب جل گئے | شیح شیری
soz-e-sham-e-hijr se shab jal gae

غزل

سوز شمع ہجر سے شب جل گئے

مرزا اظفری

;

سوز شمع ہجر سے شب جل گئے
ڈھلتے ڈھلتے آنسو ہم خود ڈھل گئے

کل کا وعدہ کیا رقیبوں سے کیا
کرتے آج آپس میں کچھ کل کل گئے

وہ اٹھا کر یک قدم آیا نہ گاہ
ہم قدم ساں اس کے سر کے بل گئے

کب چھپی چھب تختی اور وہ چال ڈھال
گو کہ منہ پر کر کے تم اوجھل گئے

شرط تھی مانوں گا جو مانگو گے تم
نام بوسہ سنتے ہی کچھ ٹل گئے

سادہ رو تو دل کے اجلے چور ہیں
ہاتھ لے یہ مال کرتے ٹل گئے

غنچۂ دل اظفریؔ تقریب سیر
گل رخاں پامال کر مل دل گئے