EN हिंदी
سوز دل سے پر نم ہو گئی | شیح شیری
soz-e-dil se pur-nam ho gai

غزل

سوز دل سے پر نم ہو گئی

شنکر لال شنکر

;

سوز دل سے پر نم ہو گئی
اب تو یہ آتش بھی شبنم ہو گئی

جب طبیعت خوگر غم ہو گئی
رفتہ رفتہ ہر خلش کم ہو گئی

زخم دل کے ہو چکے تھے لا علاج
اک نگاہ لطف مرہم ہو گئی

ہے محبت کا یہ معراج کمال
زندگی خود تشنۂ غم ہو گئی

کر چکے ہیں ان سے ہم عہد و وفا
اور یہ زنجیر محکم ہو گئی

غم پہ تھا سارا مدار زندگی
غم ہوا کم تو خوشی کم ہو گئی

وہ ستم کر کے پشیماں جب ہوئے
شرم سے گردن مری خم ہو گئی

دیکھنا میرے تصور کا کمال
آرزوئے دل مجسم ہو گئی

دیر تک ملتے رہے قلب و نظر
گفتگو کچھ آج باہم ہو گئی

چھیڑ دینا ہو گیا شنکرؔ ستم
زلف ان کی اور برہم ہو گئی