EN हिंदी
سونے والوں کو کوئی خواب دکھانے سے رہا | شیح شیری
sone walon ko koi KHwab dikhane se raha

غزل

سونے والوں کو کوئی خواب دکھانے سے رہا

منیر سیفی

;

سونے والوں کو کوئی خواب دکھانے سے رہا
میں تہ خاک تو اب خاک اڑانے سے رہا

کوئی دروازہ نہ حائل کوئی دہلیز رہی
عشق صحرا میں رہا اور ٹھکانے سے رہا

ڈوب جائیں تو کنارے پہ پہنچ سکتے ہیں
اب سمندر تو ہمیں پار لگانے سے رہا

ان دیوں ہی سے کسی طور گزارا کر لو
اب میں کمرے میں ستاروں کو تو لانے سے رہا

اپنے ہاتھوں ہی شکار اپنا میں کر لوں نہ منیرؔ
اور کچھ دیر اگر دور نشانے سے رہا