EN हिंदी
سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا | شیح شیری
sochte rahne se kya qismat ka likkha jaega

غزل

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا

فرخ جعفری

;

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا
جو بھی ہونا تھا ہوا جو ہوگا دیکھا جائے گا

شہر کی سرحد تلک پہنچا کے سب رخصت ہوئے
اب یہاں سے بس مرے ہمراہ صحرا جائے گا

اب کوئی دیوار اس کے سامنے رکتی نہیں
سیل گریہ اب مرے روکے نہ روکا جائے گا

کیا مری آنکھوں سے دنیا خود کو دیکھے گی کبھی
کیا کبھی میری طرح اک روز سوچا جائے گا

جان کی بازی لگا دینی ہے فرخؔ اب کی بار
تب کہیں جا کر یہ آئے دن کا جھگڑا جائے گا