EN हिंदी
سوچتا ہے کس لئے تو میرے یار دے مجھے | شیح شیری
sochta hai kis liye tu mere yar de mujhe

غزل

سوچتا ہے کس لئے تو میرے یار دے مجھے

شاہد کمال

;

سوچتا ہے کس لئے تو میرے یار دے مجھے
تھک چکا ہوں نفرتوں سے تھوڑا پیار دے مجھے

کون ہوں مجھے تو اپنا نام بھی پتا نہیں
کوئی میرا نام لے کے پھر پکار دے مجھے

ان خرد کی حیلہ سازیوں سے تو امان دے
دفتر جنوں میں کوئی کاروبار دے مجھے

آج اپنے ہی مقابلے پہ ڈٹ گیا ہوں میں
تیغ کوئی بھیج کوئی راہ وار دے مجھے

اس انا کی جنگ میں تو فتح یاب کر مجھے
یہ شرف بھی آج میرے شہسوار دے مجھے

کچھ خبر تو دے مرے مسافروں کی اے صبا
کچھ نشان کوچہ ہائے بے دیار دے مجھے

ٹوٹ کر بکھرتا جا رہا ہوں اس طرح سے میں
کاش کوئی ہاتھ بڑھ کے پھر سنوار دے مجھے

شاہدؔ نوائے عصر کے سخن کی قدر کر
لہجۂ سکوت حرف اعتبار دے مجھے