سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے
دل کوئی بات نہ بری سوچے
بھیک دے کر نہ جانے کیا لیں گے
اک بھکارن ڈری ڈری سوچے
کیوں گنوایا تھا راستے میں اسے
آ کے منزل پہ رہبری سوچے
ٹھہرنا ہوگا کیا اسی گھر میں
آنکھ میں نیند کی پری سوچے
میں وفا کے سوا نہ سوچوں کچھ
وہ جو سوچے ستم گری سوچے
غزل
سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے
پریم بھنڈاری

