EN हिंदी
سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے | شیح شیری
sochna hai to phir khari soche

غزل

سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے

پریم بھنڈاری

;

سوچنا ہے تو پھر کھری سوچے
دل کوئی بات نہ بری سوچے

بھیک دے کر نہ جانے کیا لیں گے
اک بھکارن ڈری ڈری سوچے

کیوں گنوایا تھا راستے میں اسے
آ کے منزل پہ رہبری سوچے

ٹھہرنا ہوگا کیا اسی گھر میں
آنکھ میں نیند کی پری سوچے

میں وفا کے سوا نہ سوچوں کچھ
وہ جو سوچے ستم گری سوچے