EN हिंदी
سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال | شیح شیری
soch raha hai itna kyun ai dast-e-be-taKHir nikal

غزل

سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال

شاہد کمال

;

سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال
تو نے اپنے ترکش میں جو رکھا ہے وہ تیر نکال

جس کا کچھ انجام نہیں وہ جنگ ہے دو نقادوں کی
لفظوں کی سفاک سنانیں لہجوں کی شمشیر نکال

آشوب تخریب سا کچھ اس اندام تخلیق میں ہے
توڑ مرے دیوار و در کو ایک نئی تعمیر نکال

چاند ستاروں کی کھیتی کر رات کی بنجر دھرتی پر
آنکھ کے اس سوکھے دریا سے خوابوں کی تعبیر نکال

تیرے اس احسان سے میری غیرت کا دم گھٹتا ہے
میرے ان پیروں سے اپنی شہرت کی زنجیر نکال

روز کی آپا دھاپی سے کچھ وقت چرا کر لائے ہیں
یار ذرا ہم دونوں کی اک اچھی سی تصویر نکال

شاہدؔ اب یہ عالم ہے اس عہد سخن ارزانی کا
میرؔ پہ کر ایراد بھی اس پہ غالبؔ کی تفسیر نکال