EN हिंदी
سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی | شیح شیری
soch ki uljhi hui jhaDi ki jaanib jo gai

غزل

سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی

اسلم کولسری

;

سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی
آس کی رنگین تتلی خوں کا چھینٹا ہو گئی

اس کی خوشبو تھی مری آواز تھی کیا چیز تھی
جو دریچہ توڑ کر نکلی فضا میں کھو گئی

آخر شب دور کہساروں سے برفانی ہوا
شہر میں آئی مرے کمرے میں آ کر سو گئی

چند چھلکوں اور اک بوڑھی بھکارن کے سوا
ریل گاڑی آخری منزل پہ خالی ہو گئی

اس قدر میلا نہ تھا جس پر کسی کا نام تھا
پھر بھی اسلمؔ آنکھ چھلکی اور کاغذ دھو گئی