EN हिंदी
سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں | شیح شیری
siyah raat se hum raushni banate hain

غزل

سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں

اسعد بدایونی

;

سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں
پرانی بات کو اکثر نئی بناتے ہیں

کل ایک بچے نے ہم سے کہا بناؤ گھر
سو ہم نے کہہ دیا ٹھہرو ابھی بناتے ہیں

ہم ایک اور ہی منظر کی تاک میں ہیں میاں
یہ دھوپ‌ چھاؤں کے نقشے سبھی بناتے ہیں

مصوران فنا اپنے کینوس پہ کبھی
نہ کوئی شہر نہ کوئی گلی بناتے ہیں

ہم اس دیار میں زندہ ہیں جس کے سارے لوگ
کبھی فتیلہ کبھی لبلبی بناتے ہیں