سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں
پرانی بات کو اکثر نئی بناتے ہیں
کل ایک بچے نے ہم سے کہا بناؤ گھر
سو ہم نے کہہ دیا ٹھہرو ابھی بناتے ہیں
ہم ایک اور ہی منظر کی تاک میں ہیں میاں
یہ دھوپ چھاؤں کے نقشے سبھی بناتے ہیں
مصوران فنا اپنے کینوس پہ کبھی
نہ کوئی شہر نہ کوئی گلی بناتے ہیں
ہم اس دیار میں زندہ ہیں جس کے سارے لوگ
کبھی فتیلہ کبھی لبلبی بناتے ہیں
غزل
سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں
اسعد بدایونی

